LIVE
Loading Breaking News...

حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کی بحالی پر غور

News Image
وفاقی حکومت نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں ماضی کے کفایت شعاری کے اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر مشاورت جاری ہے اور جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے تناظر میں ملک میں کفایت شعاری کے اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ماضی میں کیے جانے والے کفایت شعاری کے اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ موجودہ حالات میں معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے اور ایندھن کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ اقدامات، جیسے کہ بازاروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات، تاحال نافذ العمل ہیں، جبکہ دیگر اقدامات کا جائزہ لے کر جلد اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ ماضی میں یہ اقدامات ایندھن کے تحفظ اور معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے تھے جن میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاؤنس میں پچاس فیصد کٹی، اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کٹوتی اور سرکاری شعبے میں گھر سے کام کرنے کی پالیسی شامل تھی۔ وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں موٹر سائیکل، رکشہ اور آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے پٹرولیم ریلیف اسکیم بھی متعارف کروائی ہے جس پر ماہانہ تقریباً پچیس ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مستحق شہریوں کو فی لٹر ایک سو روپے کی ریلیف فراہم کی جا رہی ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ پریس کانفرنس میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک بھی موجود تھے جنہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی آئل ریفائنریز کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی ہے تاکہ آنے والے مہینوں میں ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے اور بانی اور اسٹریٹجک ذخائر کو بہتر بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں پٹرولیم ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ٹو اور تھری وہیلرز کو ہفتہ وار بنیادوں پر جبکہ چھوٹی گاڑیوں کو ماہانہ کوٹے کے حساب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اس پورے نظام کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے فیول پاس سسٹم کا انتظام کر رہی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کی رجسٹریشن کے عمل کو مکمل طور پر مفت اور آسان بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔