LIVE
Loading Breaking News...

ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاکستان کا دورہ بھارت حکومتی اجازت سے مشروط

News Image
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے واضح کیا ہے کہ آئندہ ماہ شیڈول ایشین چیمپئنز ٹرافی کے لیے قومی ٹیم کا دورہ بھارت حکومت کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔ یہ بیان بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی جانب سے پاکستان کی شرکت کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔
پاکستان کا آئندہ ماہ شیڈول ایشین چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے بھارت کا ممکنہ دورہ ملکی حکومت کی حتمی کلیئرنس سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر محی الدین احمد وانی نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ قومی ہاکی ٹیم کی پڑوسی ملک میں شرکت کا انحصار مکمل طور پر حکومتِ پاکستان کے فیصلے پر ہوگا۔ ان کا یہ ردعمل بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اس اہم ایونٹ میں ضرور حصہ لے گا۔محی الدین احمد وانی جو کہ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے وفاقی سیکرٹری بھی ہیں، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ایچ ایف حکومت کی ہدایات کی مکمل پاسداری کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعلیٰ کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور پاکستانی ٹیم کا دورہ صریحاً حکومتی اجازت سے جڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ بھگونت مان نے موہالی میں ایک تقریب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان سمیت چھ ٹیمیں مدِمقابل ہوں گی اور کثیرالملکی ٹورنامنٹ میں شرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ایشین چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کے مطابق یہ ایونٹ ستائیس اکتوبر سے پانچ نومبر تک کھیلا جانا ہے جس میں میزبان بھارت اور پاکستان کے علاوہ چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ٹورنامنٹ کے لیگ میچز جالندھر جبکہ سیمی فائنل اور فائنل موہالی میں کھیلے جائیں گے۔ اگرچہ بھارت کی موجودہ کھیلوں کی پالیسی کے تحت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سیریز پر پابندی عائد ہے، تاہم وزارتِ کھیل متعدد بار یہ واضح کر چکی ہے کہ اولمپک چارٹر کے تحت کثیرالملکی مقابلوں میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیل سکتی ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے حکومتی اجازت کا انتظار کر رہی ہے اور حتمی فیصلہ آنے کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔