LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ سے آزادی: اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے رہنماؤں کا مشترکہ مؤقف

News Image
اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے قوم پرست رہنماؤں نے کارڈف میں ایک تاریخی اجلاس کے دوران برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کا اعلان کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ویسٹ منسٹر حکومت کو جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ بننے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کی اہم قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے ویلز کے دارالحکومت کارڈف میں ایک غیر معمولی ملاقات کے دوران برطانیہ کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کرنے کے اپنے بنیادی حق کا اعادہ کیا ہے۔ ان تینوں جماعتوں میں اسکاٹ نیشنل پارٹی (SNP)، ویلز کی پلائیڈ کیمرو (Plaid Cymru) اور آئرش اتحاد کی حامی جماعت سن فین (Sinn Fein) شامل ہیں، جو سب کی سب برطانیہ سے علیحدگی کی خواہاں ہیں۔ یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک متحدہ آئرلینڈ کی حمایت کے بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس سے یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مفاہمت کی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام قوموں کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے اور کسی بھی ویسٹ منسٹر حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ بنے یا عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے سے روکے۔ اجلاس میں ایس این پی کے رہنما جان سُوینی، پلائیڈ کیمرو کے رہنما رُھن اپ آئورورتھ کے ساتھ ساتھ سن فین کی سربراہ میری لو میکڈونلڈ اور نائب رہنما مشیل اونیل نے اپنے سرکاری عہدوں کے بجائے جماعتی قائدین کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر جان سُوینی نے کہا کہ تینوں جماعتیں اصولِ خود ارادیت پر مکمل طور پر متحد ہیں اور یہی اصول ان کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی بنیاد ہے۔ یادداشت کے مطابق، تاریخ میں پہلی بار ان جزائر کے لوگوں کو اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں ایسے فرسٹ منسٹرز ملے ہیں جو مملکتِ متحدہ سے آزادی کے لیے پرعزم ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان کی قوموں کا مستقبل یورپی یونین میں جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ تینوں جماعتیں برطانیہ سے علیحدگی کے معاملے پر ایک ہی صفحے پر ہیں، تاہم اس بات پر ان کے الگ الگ مؤقف ہیں کہ یہ عمل کیسے اور کب پائے تکمیل کو پہنچے گا۔ ایس این پی سنہ 2014 کے ریفرنڈم کے بعد ایک بار پھر اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ووٹ چاہتی ہے جس میں اسکاٹ لینڈ نے برطانیہ کا حصہ رہنے کے حق میں معمولی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا۔ دوسری جانب، سن فین آئرلینڈ کے انضمام کے لیے رائے شماری کی خواہاں ہے جبکہ پلائیڈ کیمرو طویل مدتی بنیادوں پر ویلش آزادی کا ہدف رکھتی ہے۔