LIVE
Loading Breaking News...

نیشنل سٹیزن سروے 2026: عوام کی سب سے بڑی مشکلات سامنے آ گئیں

News Image
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنس (پلڈاٹ) کی جانب سے جاری کردہ پہلے نیشنل سٹیزن سروے کے مطابق بڑھتا ہوا قومی قرضہ اور توانائی کے بحران عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ سروے میں عوام کی ترجیحات اور وفاقی بجٹ کے اخراجات کے درمیان گہرے تضاد کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: ملک میں پہلی بار جاری کیے گئے نیشنل سٹیزن سروے 2026 کے مطابق پاکستانی عوام کے لیے بڑھتا ہوا قومی قرضہ اور آسمان سے باتیں کرتے بجلی اور گیس کے بل سب سے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ یہ سروے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنس (پلڈاٹ) کے تحت ہونے والے سٹیزن راؤنڈ ٹیبل میں جاری کیا گیا، جسے آزادانہ طور پر انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپنین ریسرچ (آئی پی او آر) نے منعقد کیا۔ سروے کے نتائج عوامی ترجیحات اور وفاقی بجٹ کے اخراجات میں ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں 66 فیصد جواب دہندگان نے ملک کے بڑھتے ہوئے قومی قرضے کو شدید تشویشناک قرار دیا ہے۔ سروے کے مطابق 18.771 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کا 42.9 فیصد حصہ اکیلے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، جو کہ دفاع، صحت، تعلیم، اور پنشن سمیت تمام دیگر شعبوں کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں وفاقی صحت کا بجٹ کل بجٹ کا صرف 0.1 فیصد ہے۔ یہ ریسرچ ملک بھر کے چاروں صوبوں، دیہی اور شہری علاقوں میں 23 اگست سے 5 ستمبر کے درمیان کی جانے والی 5,155 چہرہ بہ چہرہ انٹرویوز پر مبنی ہے۔ سروے کے دوران 19 فیصد شہریوں نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ روزمرہ کی استعمالی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور بے روزگاری بھی سر فہرست تشویش میں شامل ہیں۔ معیشت کے حوالے سے 91 فیصد کا کہنا تھا کہ آج کے پاکستان میں کاروبار شروع کرنا یا چلانا انتہائی مشکل ہے، اور ٹیکسوں کو اس میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا۔ سروے میں مزید انکشاف ہوا کہ 68 فیصد افراد نے آئی ایم ایف کے پروگرام کو عوام کے لیے نقصان دہ یا بے سود قرار دیا، جبکہ 60 فیصد کا ماننا تھا کہ موجودہ تعلیمی نظام جدید معیشت کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اداروں پر اعتماد کے فقدان کا ذکر کرتے ہوئے سروے میں بتایا گیا کہ کسی بھی سرکاری ادارے کو اکثریتی شہریوں کا مکمل اعتماد حاصل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرنے والے صرف 15 فیصد شہری تھے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف روینیو (ایف بی آر) پر 13 فیصد لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ کرپشن، منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے بارے میں بھی اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ افتتاحی کلمات پلڈاٹ کنسلٹنگ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مامون بلال نے ادا کیے جبکہ آئی پی او آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طارق جنید نے سروے کے طریقہ کار اور نتائج پر بریفنگ دی۔