LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کا بحران اور ریاستی ناکامی

News Image
پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حکومتی ایوانوں میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر مجرم متاثرہ بچوں کے قریبی جاننے والے یا رشتہ دار ہوتے ہیں جو نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔
بबच्चों کے خلاف تشدد اور استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاست اور معاشرہ اس سنگین مسئلے پر تاحال مصلحت کا شکار نظر آتے ہیں۔ تمام دستیاب اعداد و شمار ایک ہی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ زیادہ تر متاثرہ بچے اپنے ہی قریبی جاننے والوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور جو قوانین موجود ہیں وہ عملاً بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانے والوں کے لیے کسی قسم کی چھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ موصولہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے نصف حصے میں بچوں کے خلاف تشدد اور زیادتی کے 1914 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 80 فیصد اکیلے پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری علاقوں جبکہ 43 فیصد دیہی علاقوں سے سامنے آئے۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ 43 فیصد ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے جبکہ تقریبا 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں کے اندر پیش آئے۔ یہ صورتحال نظام کی گہری ناکامی کو بے نقاب کرتی ہے جہاں قانون کی موجودگی کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ ماضی کے بڑے سانحات جیسے کہ قصور کا اسکینڈل اور زینب انصاری کا دلخراش واقعہ بھی قومی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینے میں ناکام رہے ہیں۔ ایف آئی آر کا اندراج صرف نقصان کا اعتراف ہے، اصلی تحفظ نہیں۔ بچیوں اور بچوں کے تحفظ کے لیے منظور شدہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد، نفسیاتی مدد اور آگاہی مہمات کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ معصوم جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔