World
بحر احمر میں حوثی کنٹرول اور برکس کے اختلافات
بحر احمر کے اہم تجارتی اور تیل کے گزرگاہ پر حوثی باغیوں کے کنٹرول نے برکس ممالک کے درمیان موجود گہرے اختلافات کو واضح کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک اور خطے کے دیگر بڑے کھلاڑیوں کو ایک مشکل اور غیر آرام دہ دوہرے انتخاب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
عالمی سیاست اور تجارت کے اہم ترین مرکز بحر احمر میں حوثی باغیوں کی جانب سے تیل کی اہم گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بین الاقوامی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں سیکیورٹی کے چیلنجز کو بڑھایا ہے بلکہ ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے اتحاد برکس کے اندر موجود گہرے اختلافات کو بھی کھل کر دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاملے پر مختلف ممالک کے مفادات اور پالیسیاں باہم متصادم ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل مشکل ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، یمن کے حالات بھی انتہائی کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں جہاں ایران سے وابستہ حوثیوں نے مبینہ طور پر دو جزیروں پر قبضہ کر لیا ہے اور مارب کے اطراف میں اپنی افواج کو جمع کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد نے فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس سے خطے میں ایک نئی جنگی لہر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یمنی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور زمینی و فضائی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
حوثیوں کی اس پیش قدمی نے خلیجی ریاستوں کو ایک انتہائی غیر آرام دہ اور مشکل انتخاب کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف انہیں اپنی قومی سلامتی اور تیل کی تنصیبات کی حفاظت کا چیلنج درپیش ہے، تو دوسری طرف انہیں بین الاقوامی سفارتی دباؤ اور خطے میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدہ رسہ کشی کا بھی سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحر احمر کی اس گزرگاہ پر بحران کا کوئی فوری اور پائیدار سفارتی حل نہ نکالا گیا، تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین شدید متاثر ہو گی۔