Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، ڈالر مضبوط اور اسٹاک مارکیٹ کمزور
کومmerz بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر کھلیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ڈالر مضبوط جبکہ حصص بازار کے فیوچرز میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے کومmerz بینک کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر کھلی ہیں۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 107 ڈالر کے لگ بھگ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم پائپ لائنز کی عارضی بندش نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر محفوظ اثاثوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے ڈالر کے انڈیکس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی ٹریژریز ایک ہی حد کے اندر محدود ہیں جبکہ وال اسٹریٹ کے ایکویٹی فیوچرز میں دباؤ اور مندی کا رجحان محسوس کیا جا رہا ہے۔ تاجر اور سرمایہ کار بین الاقوامی سیاسی پیش رفت اور ایران سے متعلق سفارتی کوششوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ابتدائی طور پر سعودی عرب میں ہونے والے حملوں اور سپلائی کے خدشات کی وجہ سے تیل کے سودوں میں نمایاں تیزی آئی تھی، تاہم بعد میں ایران کے ساتھ سفارتی امیدوں اور مارکیٹ میں مثبت خبروں کی توقعات پر تیل کے کچھ منافع میں کمی بھی واقع ہوئی۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں کا انحصار خطے کی سکیورٹی صورتحال اور سفارتی مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔ کاروباری حلقے اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔