Business
سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی توقعات
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی اور ٹریژری پیداوار بڑھنے کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات تقویت پا گئی ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات اب لگ بھگ یقینی ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خام تیل کے نرخوں میں حالیہ تیزی اور پانچ فیصد کے قریب پہنچتی ہوئی ٹریژری ییلڈز نے مرکزی بینک پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پورے منظرنامے کے دوران ڈالر کی قدر میں بھی استحکام دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں بالخصوص سونے کی تلافی میں کمی آئی ہے۔ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس سے قبل انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس دوران کچھ بڑی مارکیٹس میں پوزیشنز کی کٹائی اور سی ٹی اے لیکویڈیشن کے رجحانات بھی سامنے آئے ہیں، جن کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں دو فیصد کے قریب گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
تجزیہ کار اداروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریے اور افراط زر کے اعداد و شمار سونے کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔ اگر امریکی معیشت توقعات سے زیادہ مضبوط رہتی ہے اور افراط زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے تو مرکزی بینک شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر رکھ سکتا ہے۔ اس ماحول میں سونے کے خریدار اور سرمایہ کار انتہائی چوکنا ہیں اور مارکیٹ کے ہر نئے اشارے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔