LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی اور روسی حلیف کی فنڈنگ

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ بہاماس میں ان کی شادی کی تقریبات کے دو راتوں کے اخراجات روسی رہنما ولادیمیر پوتن کے قریبی حلیف عمر کریملیو نے بطور تحفہ ادا کیے۔ یہ بیان ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے سامنے آیا جس نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھوٹی ہے۔
امریکی سیاست میں اس وقت ایک نیا باب اس وقت کھل گیا جب نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا ٹرمپ نے خود یہ بات تسلیم کی کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ایک قریبی حلیف نے ان کی شادی کی تقریبات کے کچھ مالی اخراجات اٹھائے تھے۔ یہ انکشاف ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے سامنے آیا جس میں جوڑے نے وضاحت کی کہ بہاماس کے مقام پر منعقد ہونے والی شادی کی تقریبات کے دوران دو راتوں کے اخراجات دراصل عمر کریملیو کی طرف سے ایک تحفہ تھے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی مبصرین اور میڈیا کی طرف سے طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ معاملہ روس اور امریکہ کے درمیان موجودہ سیاسی تناؤ کے تناظر میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انسٹاگرام پر جاری کیے جانے والے بیان میں جوڑے نے اس بات کی تصدیق کی کہ عمر کریملیو، جو کہ بین الاقوامی سطح پر اپنے کاروباری اور کھیلوں کے حلقوں میں اثر و رسوخ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، انہوں نے بہاماس میں ہونے والے شادی کے جشن کے دوران مہمانوں کی خاطرداری اور تقریبات کے ایک حصے کی مالی معاونت کی تھی۔ انہوں نے اس عمل کو ایک ذاتی تحفہ قرار دیا تاہم اس انکشاف کے بعد واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مالی تحائف اور روسی شخصیات کے ساتھ قریبی تعلقات مستقبل میں سیاسی سوالات کو جنم دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ خاندان کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ ایک نجی تقریب تھی اور اس کا سرکاری امور یا پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سارے معاملے نے سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان برپا کر رکھا ہے جہاں عام لوگ اور سیاسی تجزیہ کار اس پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں اس انکشاف کے امریکی سیاست پر کیا گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آیا اس معاملے پر مزید کوئی سرکاری یا غیر سرکاری وضاحت سامنے آتی ہے یا نہیں۔