LIVE
Loading Breaking News...

روس نے نئے معاہدے کے تحت شام میں فوجی اڈوں کی رسد بحال کر دی

News Image
ماسکو نے دمشق کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بعد بحیرہ روم میں اپنے فوجی قدم کو برقرار رکھا ہے۔ نئے معاہدے کے تحت روسی افواج کے لیے رسد اور سپلائی کا سلسلہ ایک بار پھر بحال ہو گیا ہے۔
ماسکو نے شامی حکومت کے ساتھ ہونے والے نئے مذاکرات اور طے پانے والے سمجھوتوں کے بعد شام میں موجود اپنے فوجی اڈوں کے لیے رسد کی ترسیل کا عمل باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس خطے بالخصوص بحیرہ روم کے خطے میں اپنے دیرینہ فوجی اثر و رسوخ کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس نئے معاہدے کے تحت روسی عسکری دستوں کو تمام ضروری سامان اور عسکری ساز و سامان کی ترسیل بلا تعطل جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ شام میں روس کی یہ فوجی موجودگی نہ صرف اس کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ماسکو کے اہم کردار کی بھی عکاس ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ عسکری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید تقویت ملے گی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر عمل درآمد میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کے ساحلوں پر روس کی یہ مستقل موجودگی عالمی طاقتوں کے درمیان جاری توازنِ قوت میں ایک فیصلہ کن عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد روس اور شام کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں معاہدے کے تحت دونوں فریقین باہمی سکیورٹی خدکات اور مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے مثبت اثرات خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے اور روسی افواج کو اپنی کارروائیوں کو مربوط طریقے سے آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔