LIVE
Loading Breaking News...

سویڈن الیکشن نتائج: اپوزیشن کو برتری، دائیں بازو کی جماعتیں کمزور

News Image
سویڈن کے عام انتخابات میں پچانوے فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد اپوزیشن اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہو گئی ہے۔ انتخابی نتائج انتہائی کانٹے دار ہیں اور حتمی نتائج کا اعلان باقی تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر کیا جائے گا۔
سویڈن میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج اتنے سخت اور غیر یقینی ہیں کہ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا فی الحال ممکن نہیں دکھائی دے رہا۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پچانوے فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جس کے بعد اپوزیشن بلاک کو حکمران جماعت کے مقابلے میں معمولی برتری حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار کا انتخابی عمل سویڈن کی حالیہ سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ دلچسپ اور کانٹے دار مقابلوں میں سے ایک ہے۔ دوسری جانب، حالیہ انتخابی رجحانات میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کچھ کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ یہ جماعتیں پچھلے چند برسوں کے دوران کافی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھیں، لیکن تازہ ترین نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز نے اب ایک بار پھر اعتدال پسند اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف رجوع کیا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے کیونکہ ابتدائی سروے اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے تھے۔ سویڈن کے الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام ووٹوں کی حتمی گنتی کے بغیر کسی بھی فتح کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔ چھوٹا سا مارجن ہونے کی وجہ سے بقیہ پانچ فیصد ووٹوں کی گنتی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے، جو کہ انتخابی نتائج کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوام سے پُرسکون رہنے کی اپیل کی ہے اور تمام عمل مکمل ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس انتخابی معرکے کے ملکی معیشت، تارکین وطن کی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ سویڈن کی آنے والی نئی حکومت کو اندرونی چیلنجز کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے امور میں بھی اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ تمام نگاہیں اب انتخابی عمل کے حتمی اعلان پر مرکوز ہیں جو ملک کے آئندہ پانچ سالہ سیاسی مستقبل کا تعین کرے گا۔