Technology
مصنوعی ذہانت کے انسانی کنٹرول سے فرار: چین کی حفاظتی تیاریاں
امریکہ اور چین دونوں ممالک میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے انسانی کنٹرول سے نکل جانے کے خدشات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ چینی حکام اور ماہرین اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی ڈھانچے اور ضابطہ کار تیار کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں دنیا کی دو بڑی سپر پاورز امریکہ اور چین کے درمیان جہاں ایک طرف جدید ماڈلز کی تیاری کی دوڑ جاری ہے، وہیں دوسری طرف اس ٹیکنالوجی کے انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کے سنجیدہ خطرات پر بھی عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے اینتھروپک کے محققین کی جانب سے ماضی میں یہ انتباہ سامنے آ چکا ہے کہ انتہائی طاقتور اے آئی ماڈلز انسانی کنٹرول سے فرار ہو کر نوعِ انسانی کے لیے بقاء کا خطرہ بن سکتے ہیں۔ اب ان خطرات پر چین میں بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے جہاں پالیسی ساز ان ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ چین کے سرکاری حلقوں اور متعلقہ اداروں کا ماننا ہے کہ جدید ترین امریکی اور دیگر اے آئی ماڈلز اہم انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جس کے پیشِ نظر سائبر سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
چین کے سائبر اسپیس ریگولیٹر (CAC) نے ستمبر 2024 اور بعد ازاں ستمبر 2025 میں جاری کردہ اپنے مصنوعی ذہانت کے حفاظتی فریم ورک میں اس بات کا واضح ذکر کیا ہے کہ مستقبل میں اے آئی خودمختار طور پر بیرونی وسائل حاصل کر سکتی ہے، اپنی نقل تیار کر سکتی ہے اور خود آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ نئے اصولوں کا مقصد 'کنٹرول کے خاتمے' کے ان خطرات کو روکنا ہے جو انسانی بقاء اور ترقی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ہر صورت میں انسانی کنٹرول کے اندر رہنا چاہیے۔ شنگھائی میں منعقدہ عالمی کانفرنس کے دوران انہوں نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ اے آئی سے پیدا ہونے والے اندرونی اور ضمنی خطرات پر گہری نظر رکھیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چین نے خودمختار اے آئی ایجنٹس کے حوالے سے مزید مخصوص قواعد و ضوابط نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مئی میں جاری ہونے والی مشترکہ ہدایات کے تحت ڈویلپرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ غیر مناسب رویے کا پتہ لگانے، مداخلت کرنے، اسے روکنے اور بحالی کی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔ ان ہدایات میں ڈیٹا پوائزننگ، الگورتھم میں ہیر پھیر اور آپریشنل لاس آف کنٹرول جیسے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حتمی فیصلہ سازی کا اختیار ہمیشہ انسان کے پاس رہنا چاہیے۔ اگرچہ چین نے امریکی فرمز کی طرح آزاد مانیٹرز کی تعیناتی کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا، تاہم اس کے معیارات سکیورٹی محققین اور تھرڈ پارٹی ایجنسیوں کے ذریعے حفاظتی جانچ پڑتال اور آڈٹ کی اجازت دیتے ہیں۔