Politics
پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک، اے ٹی سی کا سخت فیصلہ
عدالت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملزمان تفتیش سے بچنے اور کارروائی سے فرار کے لیے ملک سے باہر جا سکتے ہیں۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ نامزد رہنماؤں کے پاسپورٹ فوری طور پر بلاک کرے۔
اسلام آباد میں 26 نومبر کے احتجاجی کیس کے تناظر میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف کے 24 رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا سخت حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نامزد ملزمان کی جانب سے تفتیش میں تعاون نہ کرنے اور قانونی کارروائی سے گریز کرنے کے شواہد سامنے آئے۔ سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ عبوری ضمانت حاصل کرنے والے یہ ملزمان بار بار طلبی کے باوجود تفتیش میں شامل نہیں ہوئے، جس سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے ملک سے باہر فرار ہو سکتے ہیں۔
عدالت کے اس حکم کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو فوری طور پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ ملزمان بیرون ملک سفر نہ کر سکیں۔ یاد رہے کہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران شدید جھڑپیں اور بدامنی دیکھنے میں آئی تھی جس کے بعد سیکورٹی اداروں نے سخت کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اس احتجاج کے سلسلے میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور متعدد کارکنوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے جن کی تفتیش اب بھی جاری ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق پاسپورٹ بلاک ہونے سے ان رہنماؤں کی نقل و حرکت محدود ہو جائے گی اور انہیں تفتیشی ٹیموں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ عدالت کی جانب سے مسلسل عدم حاضری پر یہ ایک بڑا قانونی قدم اٹھایا گیا ہے جس سے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ پی ٹی آئی ترجمانوں نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا اصرار ہے کہ قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہے اور قانون سے فرار اختیار کرنے والوں کے خلاف آئینی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔