Pakistan
سپریم کورٹ کا گھریلو قتل اور خواتین کے خلاف جرائم پر اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے خواتین کے خلاف گھریلو جرائم اور قتل کے مقدمات میں صنفی حساسیت کے ساتھ تفتیش کرنے پر زور دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ازدواجی زندگی کی پرائیویسی کو ظلم چھپانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو قتل اور خواتین کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم کی تفتیش کے دوران صنف پر مبنی (جینڈر سینسٹو) نقطہ نظرن اپنانے پر زور دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ اہم مشاہدہ خواتین کے تحفظ اور انہیں انصاف فراہم کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ معاشرے میں بعض اوقات نام نہاد گھریلو پرائیویسی کی آڑ میں خواتین کے خلاف ہونے والے گھناؤنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
عدالت کا اپنے ایک اہم فیصلے میں کہنا تھا کہ چار دیواری کے تقدس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہاں ہونے والے مظالم اور قتل جیسی سنگین وارداتوں کو قانون کی گرفت سے باہر رکھا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تفتیشی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھریلو ماحول میں خواتین کی اموات اور پرتشدد واقعات کی تفتیش کے دوران روایتی طریقوں سے ہٹ کر زیادہ پیشہ ورانہ اور حساس رویہ اختیار کریں۔ اس سلسلے میں شواہد اکٹھے کرنے کے عمل کو بھی مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ مجرم قانون کے کٹہرے میں آ سکیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سپریم کورٹ کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی روک تھام کے لیے ایک اہم فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گھریلو تشدد اور قتل کے بہت سے معاملات محض صنف پر مبنی تفتیش نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی کارروائی میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس حکم نامے کے بعد پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں پر لازم ہوگا کہ وہ ایسے مقدمات میں خصوصی مہارت اور حساسیت کا مظاہرہ کریں تاکہ مظلوم خاندانوں کو بروقت انصاف مل سکے۔