LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ اور پی ٹی آئی احتجاج کی تازہ ترین خبر

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے معاملے پر صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کے لیے سرکاری مشینری کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید کارروائی آگے بڑھائی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع مارچ اور احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے ایک اہم حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ احتجاجی دھرنوں اور ریلیوں کے دوران کسی بھی قسم کی سرکاری مشینری، وسائل اور عملے کا استعمال ہرگز نہ ہونے دیں۔ عدالت کا یہ فیصلہ سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران اسلام آباد کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق آئین اور قانون کے دائرے میں رہیں گے اور ریاست کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں سے نہیں روک رہی لیکن قانون کی پاسداری سب پر لازم ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق ویڈیوز کی ایک بار اسکریننگ کی بھی اجازت دے دی ہے۔ عدالتی احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی اکابرین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عدالت کے اس حکم سے انتظامیہ اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، بشرطیکہ تمام فریقین عدالتی فیصلوں اور آئین کی حدود کا احترام کریں۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور دونوں جانب سے اس کے مختلف اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔