World
گاڑیوں کے انجن کو اسٹارٹ چھوڑنے کے نقصانات اور قانونی پہلو
گاڑیوں کو روکے بغیر ان کے انجن کو چلتا چھوڑنے سے نہ صرف ایندھن کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل صحت کے لیے انتہائی مضر اور کئی علاقوں میں قانوناً جرم ہے۔
جب کوئی گاڑی سڑک پر یا پارکنگ میں رکی ہو لیکن اس کا انجن مسلسل چل رہا ہو، تو وہ اس دوران بھی مسلسل پٹرول یا ڈیزل جلا رہی ہوتی ہے اور خطرناک آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ حالیہ رپورٹس اور تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے ڈرائیورز سرد یا گرم موسم میں اپنے گاڑیوں کے اے سی یا ہیٹر کو آن رکھنے کے لیے انجن کو بلاوجہ چالو رکھتے ہیں۔ اس عمل کو انگریزی میں 'آئڈلنگ' کہا جاتا ہے جو نہ صرف جیب پر بھاری پڑتا ہے بلکہ ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا عمل معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے طویل المدتی اثرات انسانی صحت پر انتہائی منفی مرتب ہوتے ہیں۔ جب گاڑیاں خاموش کھڑی رہ کر بھی دھواں چھوڑتی ہیں تو اس سے فضا میں زہریلی گیسیں شامل ہوتی ہیں جو سانس کی بیماریوں اور دل کے امراض کا سبب بنتی ہیں۔ دنیا کے کئی شہروں میں اس حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں اور اگر کوئی شخص بلاوجہ اپنی گاڑی کا انجن کافی دیر تک اسٹارٹ چھوڑتا ہے تو اسے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کو چند سیکنڈ سے زیادہ دیر کے لیے اسٹارٹ چھوڑنے کے بجائے اگر بند کر دیا جائے تو اس سے کافی مقدار میں ایندھن کی بچت کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور بس آپریٹرز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فلیٹس میں اس قسم کی روایات کو ختم کریں تاکہ شہروں کی ہوا کو صاف رکھا جا سکے اور ایندھن کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ شہریوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ ماحول دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر ضروری طور پر گاڑیوں کے انجن آن نہ رکھیں۔