LIVE
Loading Breaking News...

وال اسٹریٹ میں مندی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے خدشات پر چپ میکرز کے شیئرز گِر گئے

News Image
وال اسٹریٹ کے بازار حصص میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات اور چپ بنانے والی معروف کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی کے باعث نمایاں مندی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے تکنیکی شعبے میں احتیاط برتی جا رہی ہے جس سے مجموعی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
امریکہ کے معروف مالیاتی بازار وال اسٹریٹ میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں مندی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور چپ ساز کمپنیوں کے شیئرز میں ہونے والی بھاری فروخت ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ٹیکنالوجی کے شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی بے پناہ ترقی اور سرمایہ کاری اپنے تخمینے کے مطابق منافع بخش ثابت ہو گی یا نہیں۔ اس صورتحال نے خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والی کمپنیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس کاروباری ہفتے کے دوران، چپ ساز صنعت کے کئی بڑے ناموں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس نے مجموعی طور پر ٹیکنالوجی کے اہم انڈیکس کو نیچے کھینچ لیا۔ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کی طلب میں ممکنہ سست روی آ سکتی ہے یا ان کی تیاری پر آنے والے اخراجات توقع سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ان خدشات کی وجہ سے شارٹ ٹرم ٹریڈرز نے بڑے پیمانے پر اپنے شیئرز فروخت کیے، جس سے بازار میں ایک غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی اور انڈیکس منفی زون میں چلے گئے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ پر اس قسم کے دباؤ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اب انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ اگرچہ طویل مدت کے لیے مصنوعی ذہانت کو ایک انقلابی ٹیکنالوجی قرار دیا جا रहा ہے، لیکن قلیل مدتی بنیادوں پر مارکیٹ کے کھلاڑی کسی بھی قسم کے ریگولیٹری خطرات، رسد کے مسائل یا طلب میں کمی کے اشاروں پر فوری ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے حالیہ سیشن میں وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس شدید دباؤ کا شکار رہے اور سرمایہ کاروں نے اپنے پورٹ فولیو کو محفوظ بنانے کے لیے روایتی اور محفوظ شعبوں کا رخ کیا۔ آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی آنے والی مالیاتی رپورٹس میں کیا اعداد و شمار پیش کرتی ہیں اور آیا وہ سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ اگر چپ ساز صنعت کی کارکردگی بہتر رہی تو مارکیٹ میں بحالی کی امید کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر یہ احتیاطی رویہ مزید کچھ عرصے تک برقرار رہنے کا اندیشہ ہے۔