World
ساؤدی عرب پر حوثی حملے، ایران کا لاتعلقی کا اظہار اور خطے میں کشیدگی
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ایک فوجی اڈے اور مختلف شہروں پر شدید میزائل و ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں تیرہ شہری زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کی ہے۔
یمن سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر ساؤدی عرب کے اہم فوجی اڈوں اور مختلف شہروں کو اپنے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان تازہ ترین حملوں کے نتیجے میں تیرہ معصوم شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ مملکت کے کئی شہروں میں ہنگامی الرٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں نے خطے میں ایک بار پھر سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے اور امن کی تمام تر کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حوثی تحریک کی طرف سے یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خلیج میں اسٹریٹ آف ہرمز کے حوالے سے اہم سفارتی مذاکرات اور تجاویز پر پیش رفت جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ فریقین کے درمیان ہونے والی ایک اہم میٹنگ بھی مؤخر کر دی گئی ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے امکانات فی الحال معدوم نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال نے سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ نئے حملے خطے میں کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے یا میکے کے معاہدے جیسی کوششیں دوبارہ فعال ہو سکیں گی۔ ان بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے درمیان اسلامی جمہوریہ ایران نے ان حملوں میں اپنے کسی بھی قسم کے کردار یا حوثی باغیوں کی پشت پناہی کے الزامات کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ یمنی تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں ہے اور وہ خطے میں امن و استحکام کے حامی ہیں۔ تاہم، اس کے باوجود مغربی اور خلیجی ممالک کی طرف سے ایران کے مبینہ کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ادھر ساؤدی حکومت نے اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور بین برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی عناصر کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں۔ خطے کی اس متغیر اور تشویشناک صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور معاشی استحکام کے حوالے سے بھی خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔