LIVE
Loading Breaking News...

جмаعت اسلامی کا وزیر اعظم کا فیول ریلیف پیکیج مسترد

News Image
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس ریلیف پیکیج کو مہنگائی کے تناسب سے انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی جانب سے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی گاڑیوں کے لیے متعارف کرائے گئے فیول ریلیف پیکیج کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے، اس کے مقابلے میں یہ ریلیف پیکیج عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 10 پیسے فی لٹر اضافہ کیا ہے، جس سے پہلے سے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس اسکیم کے تحت مستحقین کے لیے ایک آسان رجسٹریشن کا عمل متعارف کرایا گیا ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف تک رسائی میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔ ریڈیو پاکستان اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکومت نے اس ریلیف اسکیم کو ملک کے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا تھا، تاہم سیاسی حلقوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین اور سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ چکا ہے جس سے بچنے کے لیے محض چند سو روپے یا محدود ریلیف پیکجز ناکافی ثابت ہوں گے۔ اس صورتحال نے ملک میں حکومتی کفایت شعاری کے دعوؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ ایک طرف عوامی استعمال کی اشیا مہنگی ہو رہی ہیں تو دوسری طرف حکومتی سطح پر سنجیدہ نوعیت کے اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فیول کی قیمتوں میں کیا گیا حالیہ اضافہ واپس لے اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ غریب اور متوسط طبقہ اس معاشی بحران سے نکل سکے۔