World
سعودی عرب دباؤ اور ایران جنگ مذاکرات میں تاخیر
سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور یمن میں شدید ہوتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو ملتوی کر دیا ہے۔ حوثی حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں جس سے خطے کی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
خلیجی خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور عسکری دباؤ کے پیش نظر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ واشنگتن پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یمن کے تنازع میں شدت اور سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں کے تسلسل کی وجہ سے خلیجی ممالک کو یہ مشکل فیصلے کرنے پڑے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے توسط سے ہونے والی بات چیت کو بھی فی الحال موخر کر دیا گیا ہے۔ حوثی فورسز کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف حصوں اور فضائی اڈوں پر حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا ہے بلکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی فراہمی کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان پیش رفتوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال دیکھا گیا ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اس ناگہانی اضافے سے پوری دنیا بالخصوص خلیجی ممالک کی معیشت شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک یمن میں جاری جنگ اور سعودی عرب پر حملے بند نہیں ہوتے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہونے والے مذاکرات کی بحالی انتہائی مشکل ہو گی۔ عالمی رہنماؤں کی طرف سے فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ اور معاشی بحران سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر فی الحال کشیدگی کم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔