Politics
وزیر اعلیٰ کے پی کا دورہ لاہور، پولیس کے ساتھ تصادم اور الزامات
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور (عرف آفریدی) کے دورہ لاہور کے دوران پولیس کے ساتھ شدید کشیدگی اور جھڑپ دیکھنے میں آئی۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ انہیں حکام نے لاہور میں اغوا کیا جبکہ پنجاب حکومت کے وزراء نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا دورہ لاہور اس وقت شدید سیاسی محاذ آرائی کی زد میں آ گیا جب مقامی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ان کا شدید تنازعہ اور تلخ کلامی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق، کے پی کے وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا ہے کہ لاہور میں ان کے دورے کے دوران انہیں اور ان کے رفقاء کو سرکاری حکام کی طرف سے ہراساں کیا گیا اور یہاں تک کہ انہیں اغوا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کا دعویٰ تھا کہ پنجاب حکومت سیاسی انتقام کی آگ میں جل رہی ہے اور کارکنوں کے رہائش گاہوں پر غیر قانونی چھاپے اور بدسلوکی روز کا معمول بن چکی ہے۔ دوسری جانب، پنجاب حکومت کے وزراء نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور کے پی حکومت غیر ضروری سیاسی ڈراما رچا رہی ہے۔ واقعہ کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، جس پر وزیر اعلیٰ نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی طرف سے آئندہ احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ کے حوالے سے بھی بیانات سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد سیاسی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے وفاق اور صوبوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا، جو کہ ملکی سیاسی استحکام کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہے۔