Pakistan
میر رضا قتل کیس: پولیس سرجن کا جوڈیشل کمیشن میں انکشافات
میر رضا قتل کیس میں پولیس سرجن نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوکر ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پوسٹ مارٹم کی پہلی رپورٹ میں خامیاں اجاگر کرنے پر انہیں دھمکیاں دی گئیں۔
میر رضا قتل کیس میں تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ ترین پیشرفت کے مطابق، پولیس سرجن نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہوکر اپنی رودادِ الم سنائی اور بتایا کہ کس طرح انہیں تحقیقات میں مبینہ خامیوں کی نشاندہی کرنے پر شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ انہوں نے جب میر رضا کے قتل کے سلسلے میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹس اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھائے اور خامیوں کو اجاگر کیا، تو اس کے بعد سے انہیں دھمکیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس سنسنی خیز بیان کے بعد کیس کے حوالے سے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھنے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ طبی ماہرین کی جانب سے تحقیقاتی عمل میں اس نوعیت کی مداخلت سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ دوسری جانب اس ہائی پروفائل کیس میں دیگر اہم زاویے بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس مقدمے کی تفتیش کے دوران بائنانس اور دیگر اہم کرپٹو کرنسی ڈیٹا کو حاصل کر لیا ہے، جس سے مالی لین دین اور دیگر محرکات کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ کی چیٹس بھی سامنے آئی ہیں جن سے مقتول کے خاندان کے مالی بحران اور دیگر پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ جوڈیشل کمیشن ان تمام شواہد، پولیس سرجن کے بیانات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی روشنی میں معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں اور میر رضا کے قتل کے اصل محرکات اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔