LIVE
Loading Breaking News...

جیل مینوئل اور قیدیوں کی طبی سہولیات، فیڈرل کانسٹیٹیشنل کورٹ کا اہم بیان

News Image
فیڈرل کانسٹیٹیشنل کورٹ نے قیدیوں کے لیے طبی سہولیات سے متعلق اپیل پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جیل مینوئل میں قیدیوں کی اسپتال منتقلی کے اصول واضح ہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے مختلف فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔
اسلام آباد: فیڈرل کانسٹیٹیشنل کورٹ نے قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی اور ان کی جیل سے اسپتال منتقلی سے متعلق ایک اہم کیس کی سماعت کی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ جیل مینوئل اس حوالے سے بالکل واضح احکامات فراہم کرتا ہے کہ کسی بھی قیدی کو ہنگامی یا ضرورت کی صورت میں کس طریقہ کار کے تحت اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر عدالت نے متعلقہ حکام اور فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں تاکہ جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی حقوق اور صحت کی دیکھ بھال کے امور کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عدالت میں قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے دائر کی جانے والی اپیلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں سابق وزیر اعظم عمران خان جیسی شخصیات کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے تناظر میں بھی عوامی اور قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے، جس پر عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ یا ریمارکس انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جیل مینوئل پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد سے قیدیوں کو درپیش طبی مسائل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ فیڈرل کانسٹیٹیشنل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ان نوٹسز کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعتوں میں جیل انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے تفصیلی رپورٹس پیش کی جائیں گی، جن کی روشنی میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے مزید واضح اور جامع احکامات جاری ہونے کا امکان ہے۔