LIVE
Loading Breaking News...

بیلجیئم میں غزہ کے طلبا کا انخلاء رُک گیا، یونیورسٹیوں کا احتجاج

News Image
بیلجیئم کی حکومت کی طرف سے غزہ کے تیرہ اسکالرشپ یافتہ طلبا کو ملک سے باہر نکالنے سے انکار پر تعلیمی اداروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے ریکٹرز نے سیاسی ڈیڈ لاک کی شدید مذمت کرتے ہوئے طلبا کو فوری تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیلجیئم کی جانب سے غزہ کے تیرہ اسکالرشپ یافتہ طلبا کو محاصرہ شدہ علاقے سے نکالنے سے صاف انکار کرنے پر ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے ریکٹرز اور تعلیمی حلقوں نے شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برسلز ٹائمز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ طلبا جو اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے بیلجیئم کی یونیورسٹیوں میں اسکالرشپ حاصل کر چکے ہیں، اس وقت غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں اور سیاسی اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے باہر نہیں آ پا رہے۔بیلجیئم کے تعلیمی اداروں کے سربراہان نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مجبوریوں اور باہمی رسہ کشی کی وجہ سے معصوم طلبا کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں داخلے کے تمامم مراحل طے کرنے کے باوجود اس طرح کی بیوروکریٹک رکاوٹیں انسانی ہمدردی کے اصولوں کے سراسر منافی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ان طلبا کو محفوظ طریقے سے بیلجیئم پہنچنے کی فوری اجازت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی تعلیم کا آغاز کر سکیں۔دوسری جانب، اس معاملے پر بیلجیئم کی سیاست میں بھی شدید طوفان برپا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کی وزیرِ خارجہ نے مخلوط حکومت کے اندرونی سیاسی دباؤ اور مبینہ بلیک میلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے ان تیرہ طلبا کو داخلی سیاست کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف طلبا کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور تعلیمی وژن کے تحت ان طلبا کو بحفاظت نکالنے کے انتظامات کو یقینی بنائے۔