Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، برینٹ کروڈ 107 ڈالر پر پہنچ گیا
سعودی عرب پر حوثی حملوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور بحری جہازوں پر حوثی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ کشیدگی کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی لائنز اور آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے ان واقعات نے عالمی معیشت کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے، جس سے توانائی کے بحران کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی پائپ لائن کی عارضی بندش اور حملوں کے تناظر میں سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کی وجہ سے تیل کی خریداری میں تیزی آئی اور قیمتوں میں دو فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا۔ اگرچہ دوسری جانب ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں اور بات چیت کی امیدوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کچھ دیر کے لیے معمولی کمی بھی دیکھی گئی، لیکن مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان تناؤ کی وجہ سے اوپر کی طرف ہی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل سے زائد تیل کی قیمتوں کو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بنا دیا ہے۔ دنیا بھر کے مالیاتی ادارے مہنگائی کی اس نئی لہر پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرانسپورٹ، پیداوار اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کو مزید مہگا کر سکتی ہیں۔ مرکزی بینکوں کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود کے حوالے سے سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال اور سفارتی کوششیں ہی اس بات کا تعین کریں گی کہ تیل کی قیمتیں کس سمت کا رخ کرتی ہیں، لیکن فی الحال مارکیٹ میں دباؤ بدستور قائم ہے۔