Business
پی بی او سی یوآن ریٹ، ڈالر کی تیزی اور چینی معیشت کی صورتحال
چین کے مرکزی بینک نے یوآن کا درمیانی ریفرنس ریٹ ساڑھے تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر مقرر کیا ہے۔ امریکی ڈالر کی پانچ روزہ مسلسل تیزی کے باعث آن شور اور آف شور یوآن دونوں کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا (پی بی او سی) نے چینی کرنسی یوآن کا درمیانی ریفرنس ریٹ ساڑھے تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی اور پانچ روزہ شاندار تیزی نے ایشیائی کرنسیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ریفرنس ریٹ کے اجرا سے چینی معاشی پالیسیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق اہم اشارے ملتے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی ڈالر کی دو ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب موجودگی کی وجہ سے چینی یوآن کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ روئٹرز اور دیگر مالیاتی اداروں کے تخمینوں کے مطابق، پی بی او سی کی جانب سے طے کردہ ریفرنس ریٹ کے بعد سی این وائی اور سی این ایچ کی قدریں 6.71 کی سطح سے نیچے آ گئی ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کے حالیہ کمزور معاشی اعداد و شمار بھی یوآن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
آف شور یوآن مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان غالب رہا ہے اور کرنسی محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ تسلسل کے ساتھ جاری اس تجارتی صورتحال میں سرمایہ کار انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں کیونکہ ڈالر کی مضبوطی اور مقامی اقتصادی ڈیٹا کے اثرات دونوں مارکیٹوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مرکزی بینک کی پالیسیوں اور امریکی معاشی اشاریوں پر ہی کرنسی مارکیٹ کا مستقبل منحصر ہوگا۔