Technology
ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خدشات پر بڑا بیان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حفاظتی خدشات کو ایک دھوکہ قرار دیا ہے اور مزید حفاظتی اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ یہ بیان اینتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے لازمی کِل سوئچ کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی خدشات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک 'دھوکہ' قرار دیا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے راستے میں مزید سخت حکومتی حفاظتی اقدامات یا پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین اور محققین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے بے قابو ہونے کے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز کو مکمل طور پر کنٹرول میں رکھنے یا ہنگامی طور پر بند کرنے کے لیے ایک لازمی 'کِل سوئچ' (Kill Switch) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جیک کلارک کا ماننا تھا کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، ویسے ہی اس کے غلط استعمال یا انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری بھی ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔
تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام خدشات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی خوف پھیلانے والی باتیں حقیقت سے بعید ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ کار اور قوانین ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کر سکتے ہیں اور امریکہ کو عالمی سطح پر اس میدان میں پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک بار پھر نئی بحث کو جنم دے گا جہاں ایک طرف تیز رفتار ترقی کی دوڑ ہے تو دوسری طرف سکیورٹی کے سنگین سوالات ہیں۔
حالیہ برسوں میں چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹو اے آئی سسٹمز کی آمد کے بعد سے دنیا بھر کے سیاستدان اور قانون ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو کیسے ضابطے میں لایا جائے۔ یورپی یونین پہلے ہی اس حوالے سے سخت قوانین منظور کر چکی ہے، جبکہ امریکہ میں بھی اس معاملے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے اس موقف کا امریکی پالیسی اور عالمی سطح پر اے آئی کی حکمرانی پر کیا اثر پڑتا ہے۔