LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی جانب سے خلا میں ہتھیاروں کی پہلی بار تصدیق

News Image
امریکی ایئر فورس کے سیکرٹری نے تصدیق کی ہے کہ ملک نے خلائی دفاعی نظام کے تحت خلا میں ہتھیار نصب کر دیے ہیں۔ ان ہتھیاروں کا مقصد دشمن کی ممکنہ جارحیت سے ملک کا دفاع کرنا اور خلائی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی فضائیہ کے سیکرٹری نے ایک اہم بیان میں پہلی بار باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے خلا میں اپنے ہتھیار تعینات کر دیے ہیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دنیا بھر میں خلاء کو جنگ کے ایک نئے محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور عالمی طاقتیں اپنی خلائی صلاحیتوں کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ خلائی ہتھیار ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہیں اور ان کا مقصد بیرونی خلاء میں امریکی اور اتحادی مفادات کو درپیش خطرات کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس نوعیت کے اقدامات ماضی میں خفیہ رکھے جاتے تھے یا ان کی تردید کی جاتی تھی، تاہم اب بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی منظر نامے کے پیش نظر واشنگٹن نے اس حوالے سے کھل کر بات کرنا شروع کر دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خلا میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں آنے والے وقت میں ایک نئی خلائی دوڑ کو جنم دے سکتی ہیں، جہاں روس اور چین جیسے ممالک پہلے ہی اپنی خلائی دفاعی ٹیکنالوجی کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔ امریکی فضائیہ کے مطابق، ان ہتھیاروں کی تنصیب کا مقصد کسی پر حملہ کرنا نہیں بلکہ دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کو ناکام بنانا اور خلا میں موجود اہم سیٹلائٹس کی حفاظت کرنا ہے۔ خلائی امور کے ماہرین نے اس پیش رفت کو دفاعی حکمت عملی میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا ہے۔ جدید دور میں مواصلات، نیویگیشن، اور انٹیلی جنس کا انحصار بڑی حد تک خلا میں موجود سیٹلائٹس پر ہے، اور کسی بھی دشمن ملک کی جانب سے ان اثاثوں کو نشانہ بنانے کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ کا یہ نیا قدم اس بات کا غماز ہے کہ واشنگٹن اپنی خلاء میں موجود تنصیبات کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اعلان کے عالمی سیاست اور خلائی قوانین پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ خلا بھی اب زمین کی طرح جنگ اور طاقت کے مظاہرے کا میدان بنتا جا رہا ہے۔