World
یوکرین جنگ: ڈاک خانے کے کارکنان کی فرنٹ لائن پر خدمات
یوکرین میں ریاستی ڈاک سروس کے کارکنان فرنٹ لائن کے قریب ترین علاقوں میں پنشن، ادویات اور خطوط پہنچا رہے ہیں۔ انتہائی خطرناک حالات کے باوجود یہ کارکنان جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے ایک اہم سہارا بنے ہوئے ہیں۔
یوکرین میں جاری جنگ کے دوران جہاں ہر طرف تباہی اور خونی جھڑپیں جاری ہیں، وہیں ریاستی ڈاک سروس کے کارکنان نے شجاعت اور فرض شناسی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ یہ کارکنان محاذ جنگ سے محض چند میل کے فاصلے پر مقیم شہریوں تک زندگی کی بنیادی ضروریات پہنچانے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ روسی گولہ باری اور فضائی خطرات کے باوجود ان کا عزم متزلزل نہیں ہوا۔
ریاستی پوسٹل سروس کے یہ نڈر کارکنان فرنٹ لائن کے قریب رہنے والے بزرگوں اور مستحق افراد کے لیے پنشن، ضروری ادویات، اور اپنوں کے خطوط گھر گھر پہنچا رہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور گولہ باری کے باعث عام ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہے، لیکن ڈاک کے یہ کارکنان پیداوار یا متبادل ذرائع سے کٹھن راستے طے کر کے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان ڈاک کارکنوں کی آمد محض ڈاک کی تقسیم نہیں بلکہ ان کے لیے بیرونی دنیا سے جڑے رہنے اور اس بات کا احساس ہے کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا گیا۔ جنگ کے اس کٹھن دور میں یہ ڈاک خانے عوام کے لیے ایک بڑی لائف لائن ثابت ہو رہے ہیں جو نہ صرف مالی امداد بلکہ امید کا پیغام بھی لے کر آتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور یوکرین کے حکام نے بھی ان ڈاک کارکنوں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ کارکنان کسی بھی فوجی وردی کے بغیر، صرف فرض کے احساس کے تحت میدان جنگ کے دہانے پر انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں اور ان کی یہ کاوشیں جنگ زدہ علاقوں کے لوگوں کے لیے حوصلے کا باعث ہیں۔