LIVE
Loading Breaking News...

غزہ دستاویزی فلم تنازع: اسرائیلی وزیر کا فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان

News Image
اسرائیل کے ایک وزیر نے غزہ میں فوج کے ہاتھوں مبینہ ہلاکتوں پر مبنی دستاویزی فلم بنانے والے فلم سازوں کی شہریت ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فلم غداری کے زمرے میں آ سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
اسرائیل میں ایک نئی دستاویزی فلم کے اجراء کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر اسرائیلی فوج پر غزہ میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس سنگین نوعیت کے الزامات کے سامنے آنے کے بعد اسرائیلی حکومت کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور متعلقہ حکام نے اس اقدام کو ریاست کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں اسرائیل کے ایک وفاقی وزیر نے اس متناویزی فلم کی تیاری میں حصہ لینے والے فلم سازوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک جنگی صورتحال کا شکار ہے، فوج کے خلاف اس نوعیت کے پروپیگنڈے اور الزامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس فلم کی تیاری میں ملوث افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات اور پروڈکشنز غداری کے زمرے میں آتی ہیں، جو ملک کی سلامتی اور دفاعی اداروں کے مورال کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ وزارتوں کی طرف سے اس معاملے کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس دستاویزی فلم کے خالقین کے خلاف مزید کون کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزادی اظہار رائے کے حامیوں نے اسرائیلی وزیر کے اس بیان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فنکاروں اور فلم سازوں کو حقائق اور اپنی بصیرت کے مطابق اظہارِ خیال کی آزادی ہونی چاہیے، اور شہریت منسوخ کرنے جیسی دھمکیاں جمہوری اقدار اور پریس کی آزادی پر براہ راست حملہ ہیں۔ اس تنازع نے ایک بار پھر جنگی حالات میں میڈیا، سنسرشپ اور ریاستی بیانیے کے مابین جاری کشمکش کو دنیا بھر میں نمایاں کر دیا ہے۔