LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں پبز کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی کا نفاذ

News Image
انگلینڈ اور ویلز میں نئے قوانین کا نفاذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت پبز اور بارز میں عمر کے تصدیق کے لیے روایتی کاغذی دستاویزات کے ساتھ ڈیجیٹل آئی ڈی ایپلی کیشنز کو بھی قبول کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو روزمرہ کے امور میں فروغ دینا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں تفریحی مقامات، بارز اور پبز کے حوالے سے ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے، جہاں اب صارفین کو اپنی عمر ثابت کرنے کے لیے صرف روایتی کاغذی دستاویزات پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ منگل کے روز متعارف کرائے گئے نئے قوانین کے تحت اب تمام متعلقہ کاروباری ادارے عمر کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی ایپلیکیشنز کو بھی قبول کرنے کے پابند یا مجاز ہوں گے۔ اس پیش رفت سے لاکھوں شہریوں کے لیے اپنی شناخت کا ثبوت دینا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ اب تک برطانیہ میں پبز یا شراب خانے میں داخلے یا خریداری کے وقت عمر کے تعین کے لیے پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس جیسی جسمانی اور اصلی دستاویزات کا ساتھ رکھنا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اب اس نئے قانونی ضابطے کے نفاذ کے بعد اسمارٹ فونز میں موجود منظور شدہ ڈیجیٹل آئی ڈی ایپس کو بھی مکمل قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف جعلی شناختی کارڈز کے استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ گاہکوں کا وقت بھی بچے گا۔ اس حوالے سے ٹیکنالوجی کے ماہرین اور کاروباری تنظیموں نے بھی مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ وقت کی اہم ضرورت تھا۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے استعمال سے سیکیورٹی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ان ایپس میں جدید انکرپشن اور سیکیورٹی فیچرز موجود ہوتے ہیں جو ذاتی معلومات کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔ حکومت نے تمام پبز اور بارز کے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے عملے کو اس حوالے سے تربیت فراہم کریں تاکہ وہ نئی ڈیجیٹل آئی ڈیز کو آسانی سے شناخت اور وریفائی کر سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید تقویت ملے گی اور عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی میں ڈیجیٹل حل کا استعمال مزید عام ہو جائے گا۔