LIVE
Loading Breaking News...

مغربی بنگال میں بی جے پی کا اثر: گائے کا گوشت نایاب اور غذائی تبدیلیاں

News Image
مغربی بنگال میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے اثر و رسوخ کے بعد گائے کے گوشت کی فراہمی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مقامی سطح پر روایتی کھانوں اور غذائی عادات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں سیاسی منظر نامے کی تبدیلی کے ساتھ ہی عام زندگی اور ثقافتی معمولات بالخصوص غذائی عادات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ میں اضافے کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں گائے کا گوشت بتدریج مارکیٹوں سے غائب ہو رہا ہے۔ مقامی قصائیوں اور ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی کے نظام میں شدید رکاوٹوں اور حفاظتی خدشات کے باعث گوشت کا حصول اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ اس صورتحال نے مغربی بنگال کے روایتی کھانوں اور اقلیتوں کی غذائی روایات کو شدید متاثر کیا ہے۔ بنگال میں گائے کا گوشت ایک بڑی آبادی بالخصوص غریب اور محنت کش طبقے کی روزمرہ خوراک اور سستے پروٹین کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم سیاسی تبدیلیوں اور دائیں بازو کی تنظیموں کی سرگرمیوں کے بعد اس کاروبار سے وابستہ افراد کو قانونی اور سماجی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے رس رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس رجحان سے نہ صرف چھوٹے درجے کے کاروباری افراد اور قصائیوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ریاست کے اندرونی اضلاع سے لے کر دارالحکومت کولکتہ تک کے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے مینو سے یہ ڈشز یا تو ختم کی جا رہی ہیں یا پھر ان کے متبادل تلاش کیے جا رہے ہیں، جو عوام کے ایک بڑے طبقے کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔