Pakistan
کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے 100 دن مکمل، عوام کو مشکلات
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جون سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد موبائل ڈیٹا اور براڈ بینڈ سروسز کی معطلی کو سو دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی طویل بندش کے باعث تعلیمی سرگرمیوں، کاروبار اور مواصلات کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل ڈیٹا اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کو سو دن سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ صورتحال جون کے مہینے میں انتخابی اصلاحات کے نفاذ کے لیے شروع ہونے والے عوامی احتجاج اور دھرنوں کے بعد پیدا ہوئی تھی، جب سکیورٹی اور امن عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے تھے۔ اس طویل تعطل نے خطے کے لاکھوں باسیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث جہاں عام شہریوں کو روزمرہ کے رابطوں میں شدید دشواری کا سامنا ہے، وہیں طلباء، اساتذہ، تاجر اور فری لانسرز بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز اور ریسرچ کے کام سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ کاروبار اور آن لائن ٹرانزیکشنز کا نظام بھی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ مقامی تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی طویل بندش سے معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہو چکی ہیں اور نوجوان طبقہ ڈیجیٹل دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ دوسری جانب، حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات مکمل طور پر بہتری کی طرف گامزن ہونے پر مواصلاتی خدمات کی بحالی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم، عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل حقوق کی بحالی اور روزمرہ زندگی کو معمول پر لانے کے لیے فوری طور پر انٹرنیٹ سروسز بحال کی جائیں تاکہ شہریوں کی مشکلات کا مداوا ہو سکے۔