Technology
ٹرمپ کا اینڈیا سی ای او کو فون، اے آئی کے خدشات مسترد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اینڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک لائیو تقریب کے دوران اچانک فون کال کی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خدشات کو ایک دھوکہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کے حوالے سے پائے جانے والے خطرات بے بنیاد ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
امریکہ کے سابق اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچا دی جب انہوں نے معروف مائیکرو پروسیسر بنانے والی کمپنی اینڈیا (Nvidia) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک لائیو ایونٹ کے دوران اچانک فون کال کر ڈالی۔ اس حیرت انگیز کال کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے جڑے ممکنہ خطرات پر گفتگو کرنا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لائیو شو کے دوران واضح کیا کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کو لے کر جو خوف و ہراس پایا جاتا ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض ایک بڑا دھوکہ یا فریب ہے۔ تقریب کے شرکاء اور خود اینڈیا کے سی ای او اس غیر متوقع کال پر شش و پنج کا شکار ہو گئے کیونکہ امریکی صدر نے اچانک پروگرام کے درمیان مداخلت کر کے ٹیکنالوجی کے مستقبل پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہونے کے بجائے معاشی ترقی اور جدت طرازی کا ایک نیا دور لے کر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس شعبے کو روکنے یا اس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں اس کی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اے آئی کے بارے میں منفی پروپیگنڈا محض چند ایسے عناصر کی طرف سے پھیلایا جا رہا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے خائف ہیں۔ اس غیر متوقع ٹیلیفونک گفتگو نے نہ صرف تقریب کے شرکاء کو دنگ کر دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں اور اس شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔