Business
انڈین اسٹاک مارکیٹ مارکیٹ ریپ: سینسیکس اور نفٹی کا احوال
جمعہ کے روز انڈین شیئرز بازار میں لگاتار تیسرے سیشن میں بھی تیزی کا رجحان دیکھا گیا جہاں سینسیکس 166 پوائنٹس بڑھ کر بند ہوا۔ اس دوران بجاج فنانس اور بجاج فنسرو سرفہرست حصص میں شامل رہے جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں مندی کا رجحان رہا۔
انڈین حصص بازار میں ہفتے کے آخری کاروباری روز یعنی جمعہ کے روز لگاتار تیسرے سیشن میں بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں اہم انڈیکس مثبت زون میں بند ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق، بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس 166 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا جبکہ نائفٹی انڈیکس بھی 24,380 کی اہم حد کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ مارکیٹ کے اس مثبت تسلسل نے سرمایہ کاروں میں نیا جوش بھر دیا ہے اور تجزیہ کار آئندہ دنوں کے حوالے سے بھی پرامید دکھائی دے رہے ہیں۔
اس کاروباری سیشن کے دوران بجاج گروپ کے حصص نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بجاج فنانس اور بجاج فنسرو نے مارکیٹ کی اس تیزی میں قائدانہ کردار ادا کیا اور سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے حصص میں شمار ہوئے۔ ان دونوں کمپنیوں کے شیئرز میں خریداروں کی گہری دلچسپی دیکھی گئی جس کی وجہ سے مارکیٹ کو اوپر کی جانب ایک زبردست سہارا ملا۔ سرمایہ کاروں نے اس اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مالیاتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔
دوسری جانب، مارکیٹ کے دوسرے شعبوں بالخصوص آئی ٹی سیکٹر میں ملا جلا رجحان بلکہ قدرے دباؤ دیکھا گیا۔ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز یعنی ٹی سی ایس اور انفوسس کے حصص میں فروخت کا دباؤ پایا گیا جس کی وجہ سے آئی ٹی انڈیکس نچلی سطح پر آگیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری ہلچل اور معاشی اشاریوں کی وجہ سے انڈین آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز کو عارضی طور پر سست روی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مجموعی طور پر، ماہرینِ معاشیات اور مارکیٹ تجزیہ کار موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ مستقبل قریب میں مارکیٹ کی سمت کے حوالے سے محتاط لیکن مثبت توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر معاشی اشاریے اسی طرح بہتر رہتے ہیں تو انڈین ایکویٹی بینچ مارکس آئندہ ہفتوں میں بھی اپنی اس مثبت رفتار کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ عالمی منڈیوں سے کوئی منفی خبر سامنے نہ آئے۔