Politics
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، ٹرمپ کی میل ان ووٹنگ پابندیاں مسترد
امریکی سپریم کورٹ نے اہم مڈٹرم انتخابات سے قبل بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے قواعد سخت کرنے کی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ اس عدلیتی فیصلے کے بعد انتخابی عمل میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور ووٹرز کو معمول کے مطابق ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔
امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ نے اہم ترین مڈٹرم انتخابات سے بالکل قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں بذریعہ ڈاک ووٹنگ (میل ان ووٹنگ) کے قواعد کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی اچانک تبدیلی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی طویل عرصے سے بذریعہ ڈاک ڈالے جانے والے ووٹوں کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے میل ان بیلٹس پر کڑی شرائط عائد کی جانی چاہئیں تاکہ مبینہ طور پر کسی بھی بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔ تاہم، سپریم کورٹ کی جانب سے اس بابت دائر کی گئی پٹیشن کو خارج کیے جانے کے بعد اب پرانے قوانین کے تحت ہی ووٹنگ کا عمل جاری رہے گا۔
ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکی انتخابی نظام میں ووٹرز کے حقوق کے تحفظ اور رسائی کو برقرار رکھنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں اس فیصلے سے ان لاکھوں ووٹرز کو ریلیف ملا ہے جو پولنگ اسٹیشن جانے کے بجائے ڈاک کے ذریعے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عدالت کے اس حکم کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے انتخابی تیاریاں مکمل کریں۔