LIVE
Loading Breaking News...

امریکی امیگریشن پالیسی: ٹرمپ انتظامیہ کو عدالتی محاذ پر بڑی ناکامی

News Image
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ویزا اور گرین کارڈ کی حد بندیوں کے خلاف عدالتوں اور ڈیموکریٹک ریاستوں نے قانونی چیلنجز دائر کر دیے ہیں۔ اس صورتحال سے انتظامیہ کی سخت گیر تارکین وطن پالیسیوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
واشنگٹن: نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اپنی سخت گیر ہجرت (امیگریشن) کی پالیسیوں کے نفاذ کے حوالے سے شدید قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں عدالتوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اثر ریاستوں کی جانب سے ویزا اور گرین کارڈز کی حد بندیوں کے خلاف متعدد قانونی چیلنجز دائر کیے گئے ہیں، جنہیں انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ اقدامات انتظامیہ کے اس ایجنڈے کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جس کا مقصد قانونی تارکین وطن کی آمد کو نمایاں طور پر محدود کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ قانونی جنگیں ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ملک میں غیر ملکی شہریوں کے داخلے اور مستقل رہائش کے قوانین کو مزید سخت بنانے کی تیاریاں جاری تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے نہ صرف معیشت بلکہ ان خاندانوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے جو طویل عرصے سے قانونی عمل کے تحت امریکہ منتقل ہونے کے منتظر تھے۔ ڈیموکریٹک ریاستوں کے قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ سخت گیر اقدامات وفاقی قوانین اور آئین سے متصادم ہیں، اس لیے عدالتوں کو مداخلت کر کے ان پر فوری پابندی عائد کرنی چاہیے۔ دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کے حامیوں کا اصرار ہے کہ یہ سخت فیصلے قومی سلامتی اور مقامی شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملکی وسائل پر بوجھ کم کرنے اور روزگار کے مواقع مقامی افراد کے لیے محفوظ بنانے کی غرض سے امیگریشن کے ضوابط کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم، عدالتی محاذ پر اس کشمکش کے باعث آنے والے دنوں میں امیگریشن کے شعبے میں مزید قانونی تنازعات پیدا ہونے کا قوی امکان ہے، جس سے لاکھوں تارکین وطن کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے۔