LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں فضائی حملے، سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف سخت موقف

News Image
سعودی عرب کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کے عزم کے بعد یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے تصدیق کی ہے کہ کئی شہروں میں خطرہ ٹل چکا ہے جبکہ سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے خطے میں سکیورٹی خدشات اور حملوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن ردعمل ظاہر کرنے کے عزم کے بعد، یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں جاری لڑائی اور تنازعے کے درمیان سعودی اتحاد کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے، جس کا مقصد خطے کے امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کا سدباب کرنا ہے۔ ادھر، سعودی عرب کے سول ڈیفنس حکام نے یانبو سمیت چھ بڑے شہروں میں صورتحال کو کنٹرول میں قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہاں اب خطرہ ٹل چکا ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت کئی اہم مقامات پر ممکنہ خطرات اور حفاظتی تدابیر کے پیش نظر مختصر الرٹس بھی جاری کیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یمن کے محاذ پر جاری کشیدگی میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران سے وابستہ حوثی گروپ اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان جاری اس کشمکش نے خطے کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ سخت موقف اس بات کا غماز ہے کہ مملکت اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ حالیہ صورتحال کے تناظر میں، خطے کے دیگر ممالک اور بین الاقوامی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو یمن اور اس کے گردونواح میں انسانی و سکیورٹی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس وقت سعودی عسکری اداروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اور دفاعی تیاریاں مکمل حالت میں رکھی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناگوار واقعے کو روکا جا سکے۔