LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان اسپتال منتقلی: ایف سی سی نے سپریم کورٹ کا ریکارڈ مانگ لیا

News Image
وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی اور قیدیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جیل مینوئل میں قیدیوں کی اسپتال منتقلی سے متعلق قوانین بالکل واضح ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ سے متعلقہ کیس کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے علاج معالجے اور ان کی میڈیکل بورڈ کے تحت اسپتال منتقلی سے متعلق قوانین میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا اور جیل مینوئل اس حوالے سے بالکل واضح احکامات فراہم کرتا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران قیدیوں کے بنیادی حقوق اور ان کی طبی سہولیات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عدالتی کارروائی میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ملک کی دیگر جیلوں میں بند قیدیوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاؤ اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جیسی کہ موجودہ مقدمات میں زیر بحث ہیں۔ آئینی عدالت نے اس نکتہ پر بھی زور دیا کہ قانون کی حکمرانی اور تمام قیدیوں کے لیے یکساں طبی اصولوں کا نفاذ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے تاثر کو زائل کیا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس پیش رفت پر بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کا ریکارڈ سامنے آنے کے بعد عدالت کو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے میں بڑی مدد ملے گی اور جیل مینوئل کے تحت قیدیوں کی صحت کے معاملات پر ایک واضح نظیر قائم ہو سکے گی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر تمام ضروری دستاویزات اور ریکارڈ عدالت میں جمع کرائے جائیں۔