LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل: فلسطینی کارکنوں کا خاتمہ اور پی اے کو ختم کرنے کا اعلان

News Image
اسرائیلی وزیرِ معیشت نیر برکات نے ایک حالیہ کانفرنس کے دوران فلسطینی کارکنوں کے داخلے پر مکمل پابندی اور فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے اس متنازع بیان سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ معیشت اور صنعت نیر برکات نے یروشلم میں منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سخت موقف کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کو اب مزید فلسطینی کارکنوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کو بھی مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو روکا جا سکے۔ ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیر برکات نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں فورس 100 نامی خصوصی جیل یونٹ کے فوجیوں کی اپنے گھر میں میزبانی کی تھی، جہاں ان کے درمیان سکیورٹی کے امور اور موجودہ حالات کے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ فلسطینیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اور سکیورٹی امور میں کسی بھی قسم کی نرمی اب اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے اور موجودہ پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے خلاف اس طرح کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پہلے ہی خطے میں جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے انسانی بحران اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے اس قسم کے جارحانہ بیانات نہ صرف دو ریاستی حل کے تصور کو مکمل طور پر ملیامیٹ کر رہے ہیں بلکہ اس سے پرتشدد کارروائیوں میں بھی مزید تیزی آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ اس قسم کے اقدامات خطے کو ہمیشہ کے لیے عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب، فلسطینی قیادت اور مختلف تنظیموں نے نیر برکات کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیانات صیہونی حکومت کے اصل عزبے کو بے نقاب کرتے ہیں جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے اور ان کی سرزمین پر قبضے کو طول دینے کے درپے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت امن مذاکرات کے راستے پر چلنے کے بجائے طاقت کے زور پر اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے، جس کے دور رس اور خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔