LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں ٹریفک کم، مشرق وسطیٰ تنازعہ اور تیل کی قیمتیں

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور حملے بڑھنے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات بھی مؤخر کر دیے ہیں جبکہ تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور بڑھتے ہوئے حملوں کے منفی اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر واضح طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک انتہائی کم ہو گئی ہے۔ خلیجی خطے میں سکیورٹی خدشات اور بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ توانائی کی سپلائی لائنز کو لاحق خطرات کے پیش نظر تجارتی کمپنیوں نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والے متوقع مذاکرات کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے تنازعے اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ایئربیس پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان حالات کے براہ راست اثرات عالمی منڈی پر بھی پڑے ہیں جہاں خام تیل (برینٹ) کی قیمتیں ایک سو آٹھ ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ اور مجموعی طور پر ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور دوبارہ کھولنے کا معاملہ امریکہ کی جانب سے دی جانے والی ضمانتوں سے مشروط ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ جب تک خطے میں امریکی اور مغربی مداخلت کے حوالے سے پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں، اسٹریٹجک امور پر پیش رفت مشکل ہو گی۔ عالمی برادری اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل بدستور بڑے خطرات کی زد میں ہیں۔