World
بحیرہ احمر میں حوثیوں کا قبضہ اور تیل کے بحران کا خطرہ
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر میں اہم اسٹریٹجک جزیروں پر قبضہ کر لیا ہے جس سے عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس پیشرفت کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کا ایک شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے اہم اور اسٹریٹجک جزیروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین پیشرفت کے بعد خطے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بین الاقوامی بحری راستوں پر سکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ برطانوی اور عرب میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کی اس کارروائی کے بعد خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب نے جوابی فضائی حملوں میں تیزی لائی ہے تاکہ اسٹریٹجک گزرگاہوں پر حوثی اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔ اس صورتحال نے عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کا یہ بحیرہ باب المندب اور اس سے منسلک راستے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان اہم راستوں پر حوثیوں کے قبضے یا بڑھتے ہوئے کنٹرول کے نتیجے میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی منڈی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے اور آبنائے اور جزیروں کی سکیورٹی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر تیل کا ایک بڑا بحران جنم لے سکتا ہے جس سے ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ دوسری جانب، اس صورتحال نے خلیجی ریاستوں کو بھی ایک غیر آرام دہ انتخاب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف انہیں اپنی سرحدوں اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے عسکری اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں، تو دوسری طرف انہیں یہ بھی خطرہ ہے کہ تنازع کے مزید پھیلنے سے خطے کی معیشت اور توانائی کے ذخائر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سمندری تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے فوری سفارتی و عسکری کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔