Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس 2,541 پوائنٹس گر گیا
مڈل ایسٹ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کے بازار میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,541 پوائنٹس کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم بعد ازاں بازار میں کچھ خریداری کا رجحان بھی دیکھا گیا جس سے صورتحال میں جزوی بہتری آئی۔
مڈل ایسٹ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہنگامہ خیز اتار چڑھاؤ کے براہ راست اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر بھی واضح طور پر دیکھے گئے ہیں۔ حالیہ کاروباری سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 2,541 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ اس ناگوار رجحان نے کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ عالمی توانائی کے بحران کے خدشات مقامی مارکیٹ کی سمت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متزلزل کیا ہے۔ تیل کی سپلائی لائنز اور توانائی کے نرخوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے کاروباری اداروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔ اس زبردست مندی نے مارکیٹ کے کئی اہم سیکٹرز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بڑے پیمانے پر انڈیکس کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔
تاہم، اس مجموعی مندی اور گھبراہٹ کے باوجود بازار میں بعد ازاں کچھ نچلی سطح پر خریداری (بائنگ ریٹرنز) کا رجحان بھی دیکھنے میں آیا۔ کاروباری روز کے اختتامی لمحات میں بعض حصص کی قیمتیں پرکشش ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے دوبارہ سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی، جس کی بدولت کچھ رپورٹس کے مطابق انڈیکس میں بعد ازاں ریکوری کی کوششیں بھی ہوئیں اور مارکیٹ کے بعض حصوں میں سبز رنگ بھی دکھائی دیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا رخ مکمل طور پر بین الاقوامی حالات بالخصوص مشرق وسطیٰ کے تنازع اور عالمی تیل کی قیمتوں کے ارتقا پر منحصر ہوگا۔ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور عالمی منڈیوں میں استحکام آتا ہے، تو مقامی سطح پر بھی کاروباری سرگرمیاں معمول پر آسکتی ہیں، بصورت دیگر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ کچھ اور عرصہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔