AI
مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو خطرہ: سابق گوگل محقق کی وارننگ
گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک سابق محقق نے انتباہ جاری کیا ہے کہ بے قابو مصنوعی ذہانت انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کرنے اور حفاظتی اقدامات لازمی قرار دینے پر زور دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے تناظر میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک سابق محقق نے انسانیت کو لاحق خطرات کے حوالے سے انتہائی سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا انسان اب اپنی ہی بنائی ہوئی اس ٹیکنالوجی پر سے کنٹرول کھو رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر کے نامور سائنسدانوں اور ٹیک رہنماؤں نے اے آئی کے غیر منظم پھیلاؤ کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انڈسٹری کے اندر سے بھی اب آوازیں اٹھنے لگی ہیں جہاں محققین حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیے جانے پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اینتھروپک نامی اے آئی کمپنی سے وابستہ ایک محقق کا استعفیٰ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ترقی کی اس اندھی دوڑ میں احتیاطی تدابیر کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سمیت دنیا کی کئی اہم شخصیات پہلے ہی یہ کہہ چکی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری طور پر بریک لگانی چاہیے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی طور پر لازمی 'کل سوئچ' (kill switch) کا نظام بنانا ناگزیر ہو سکتا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اس نظام کو بند کیا جا سکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے اس ٹیکنالوجی کے ضابطہ اخلاق طے نہ کیے گئے تو یہ انسانی بقا کے لیے ایک بہت بڑا بحران بن سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اور ٹیک کمپنیاں منافع کی دوڑ سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دیں۔