Business
ٹرمپ شی سربراہی اجلاس سے قبل چینی مرکزی بینک کا یوآن کو مضبوط کرنے کا فیصلہ
امریکی صدر اور چینی صدر کی متوقع ملاقات سے قبل چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا نے یوآن کی ریفرنس ریٹ میں بہتری لاتے ہوئے اسے مضبوط کیا ہے۔ ڈالر کی مضبوطی اور کمزور اقتصادی اعداد و شمار کے باوجود چینی حکمران کرنسی کے استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔
بیجنگ: امریکی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع اہم سربراہی اجلاس سے قبل، چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) نے کرنسی مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے یوآن کی قدر کو مضبوط کیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق مرکزی بینک نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کا ریفرنس ریٹ 6.7670 مقرر کیا ہے، جو کہ پچھلے ریٹ 6.7698 کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ڈالر گذشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے اور چینی معیشت سے متعلق کچھ کمزور اقتصادی اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔ غیر ملکی زر مبادلہ کی مارکیٹ میں ان تبدیلیوں کے بعد سے سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کی نظریں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی اور تجارتی بات چیت پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے یوآن کے نرخوں میں یہ ایڈجسٹمنٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ حکام بین الاقوامی تجارتی مذاکرات سے پہلے کرنسی کے محاذ پر کسی بھی قسم کے غیر ضروری دباؤ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ فاریکس مارکیٹ کے مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی اور معیشی اشاریے عالمی منڈیوں میں کرنسی کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تجارتی کشیدگی اور اقتصادی سست روی کے خدشات کے درمیان، مرکزی بینک کی یہ مداخلت مارکیٹ کے شرکاء کو اعتماد دینے کی ایک کوشش ہے تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول مستحکم رہ سکے۔