LIVE
Loading Breaking News...

مکلمور کا ایڈ شیئرن ٹور سے اخراج، فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر دباؤ

News Image
مشہور ریپر مکلمور نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹیج پر 'فری فلسطین' کا نعرہ لگانے کے بعد نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ کے دباؤ پر انہیں ایڈ شیئرن کے امریکی ٹور سے نکال دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد موسیقی اور شوبز کی دنیا میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور فنکاروں کی آزادیِ اظہار پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مشہور امریکی ریپر مکلمور نے حال ہی میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ انہیں معروف گلوکار ایڈ شیئرن کے امریکی ٹور سے صرف اس لیے باہر کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے ایک کنسرٹ کے دوران 'فری فلسطین' یعنی آزاد فلسطین کا نعرہ لگایا تھا۔ اس بیان کے بعد دنیا بھر کے میڈیا میں یہ معاملہ زیر بحث آ گیا ہے اور فنکاروں کے بنیادی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دباؤ مبینہ طور پر معروف امریکی کاروباری شخصیت اور نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ کی جانب سے ڈالا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد سے موسیقی کی صنعت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد فنکاروں اور حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ بعض حلقے اس پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ معروف گلوکارہ پنک نے بھی اس پوری صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پر ہونے والے شدید ردعمل اور تنقید کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تنازعات کے اس دور میں اپنے مؤقف پر قائم رہنا اور تنہا کھڑے ہونا انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب، مکلمور نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے فلسطین کے حق میں دیے گئے اپنے بیان کا پرزور دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق اور مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کرنا ہر انسان کا اخلاقی فرض ہے اور وہ اس معاملے پر اپنے خیالات کو تبدیل نہیں کریں گے۔ اس تنازعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی اور انسانی حقوق کے موضوعات پر شوبز کی دنیا میں بھی کس قدر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جہاں فنکاروں کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنا بعض اوقات ان کے کیریئر کے لیے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔