World
لوسی لیٹبی انکوائری رپورٹ جاری، نوزائیدہ یونٹ کی ناکامی کا انکشاف
برطانیہ میں لوسی لیٹبی کیس سے متعلق تھرل وال انکوائری کی حتمی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ انکوائری میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نوزائیدہ یونٹ میں بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات انتہائی ناکافی تھے۔
برطانیہ میں نرس لوسی لیٹبی کے مجرمانہ فعل کے بعد قائم کی جانے والی تھرل وال انکوائری (Thirlwall Inquiry) نے اپنی حتمی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ہسپتال کے نظام پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انکوائری کے دوران سامنے آنے والے حقائق نے پورے طبی شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انتظامیہ کی مبینہ غفلت کو بے نقاب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انکوائری میں یہ بات واضح طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ اس ہسپتال کے نیوناٹل یا نوزائیدہ یونٹ میں بچوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات میں ایک مکمل اور سنگین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ نرس لوسی لیٹبی کے زیر اثر کام کرنے والے اس وارڈ میں ابتدائی طور پر حکام نے صورتحال کی سنگینی کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے یہ دلخراش واقعات رونما ہوئے۔
ماہرین اور انکوائری کمیشن کا ماننا ہے کہ اگر وقت پر انتظامیہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے اور حفاظتی پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد کرواتے، تو قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنے کے لیے طبی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید سخت کرنا ہوگا۔
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانیہ بھر میں صحت کے نظام اور ہسپتالوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر از سر نو غور کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ کسی اور ماں کو اس قسم کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔