LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، ٹرمپ کا میل ان بیلٹس کا منصوبہ بلاک

News Image
امریکی سپریم کورٹ نے میل ان بیلٹس کے حوالے سے نافذ کردہ نئے ضوابط پر عائد وفاقی جج کی پابندی ہٹانے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں انتخابی عمل اور ووٹنگ کے حقوق کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں میل ان بیلٹس کو محدود کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کو فی الحال آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے ان تمام کوششوں کو دھچکا لگا ہے جو سابقہ انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار کو مشکل بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔ انتظامیہ چاہتی تھی کہ عدالت ایک وفاقی جج کے اس عبوری حکم کو کالعدم قرار دے جس کے تحت نئے قواعد پر عمل درآمد کو عارضی طور پر روکا گیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی انتخابی نظام اور ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران میل ان بیلٹس کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا کیونکہ لاکھوں شہریوں نے گھر بیٹھے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کو ترجیح دی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ان قواعد میں تبدیلی سے انتخابی عمل کو مزید شفاف بنایا جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے بالواسطہ طور پر ووٹرز کی ایک بڑی تعداد ووٹ ڈالنے سے محروم ہو سکتی ہے۔ اس تنازع کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچا جہاں وفاقی جج نے ابتدائی طور پر ان نئے قواعد پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے کے بعد یہ پابندی بدستور برقرار رہے گی اور ٹرمپ انتظامیہ کو اس قانونی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس فیصلے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امریکی عدلیہ انتخابی قوانین میں یکطرفہ اور اچانک تبدیلیوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے ملکی سیاست اور آئندہ کے انتخابات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ سیاسی مبصرین اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔