LIVE
Loading Breaking News...

انگلش چینل میں تارکین وطن کی کشتیوں کی آمد میں کمی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار

News Image
برطانوی حکام کے مطابق انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی کی اصل وجہ سکیورٹی اداروں کی موثر کارروائیاں ہیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور دیگر عوامل بھی اس رجحان میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
برطانوی حکام اور متعلقہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ انگلش چینل کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کمی کے پیچھے سب سے بڑا محرک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی سخت اور موثر کارروائیاں ہیں۔ سرحدی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا گیا ہے اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے اس خطرناک راستے کو استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ہی اس تبدیلی کی واحد وجہ نہیں ہیں بلکہ اس کے پس منظر میں دیگر کئی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات نے بھی ممکنہ طور پر اس نقل مکانی کے رجحان پر اثر ڈالا ہے۔ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال میں تبدیلی کی وجہ سے تارکین وطن کے روٹس اور ان کے سفر کے فیصلوں میں تبدیلیاں آ رہی ہیں جو اس مجموعی صورتحال کا اہم حصہ ہیں۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ غیر قانونی انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اضافی وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں بھی اس حوالے سے سخت پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ سمندری راستوں پر ہونے والے جانی نقصان کو روکا جا سکے اور سرحدی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے کیونکہ یہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔