LIVE
Loading Breaking News...

بیٹے کے قتل کے مقدمے میں سزا پانے والی ماں کی سزا کالعدم

News Image
برطانیہ یا متعلقہ عدالتی نظام میں سنہ 2023ء کے دوران بیٹے کو قتل کرنے اور بیٹی کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں سزا پانے والی ایک خاتون کے مقدمے کا فیصلہ اعلیٰ ججوں نے کالعدم قرار دے دیا۔ سنہ 2025ء میں ہونے والی اس نئی عدالتی پیش رفت کے بعد سابقہ سزاؤں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
عدالتِ عالیہ کے سینئر ججوں نے ایک اہم اور تہلکہ خیز فیصلے میں سنہ 2023ء کے دوران سنائی جانے والی اس سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت ایک ماں کو اپنے ہی بیٹے کے قتل اور بیٹی کو قتل کرنے کی کوشش کے الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت کے عدالتی فیصلوں کے بعد خاتون کو طویل قید کی سزا بھگتنی پڑی تھی، تاہم قانونی ماہرین اور اپیل کے عمل کے بعد اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ سنہ 2025ء میں عدالت کے اعلیٰ ججوں نے ریکارڈ اور شواہد کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ سزائیں قانونی طور پر غیر محفوظ (unsafe) تھیں۔ ججوں کے مطابق اس پورے مقدمے میں ایسے کئی تکنیکی اور قانونی نقائص موجود تھے جن کی وجہ سے اصل حقائق تک رسائی متاثر ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے پچھلی تمام سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کے حوالے سے مزید قانونی اقدامات کا حکم دیا ہے۔ یہ مقدمہ اپنے وقت میں معاشرتی اور قانونی حلقوں میں انتہائی حساس سمجھا جا رہا تھا کیونکہ اس میں ایک ماں پر اپنے ہی بچوں کے خلاف انتہائی سنگین جرائم کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ابتدائی ٹرائل کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ دلائل کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت نے سزائیں سنائی تھیں، لیکن دفاعی وکلاء کی جانب سے مسلسل اپیلیں دائر کی جا رہی تھیں تاکہ انصاف کے تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کیا جا سکے۔ اب سنہ 2025ء کے اس فیصلے کے بعد قانوندانوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں قانونی غلطیوں کی درستگی کو سراہا جا رہا ہے، وہیں اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ سنگین نوعیت کے جرائم کے مقدمات میں شفاف تحقیقات انتہائی ضروری ہوتی ہیں تاکہ کسی بھی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور اصل مجرم قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں۔